غزل

اک پل بھی اُسے آنکھ سے اُوجھل نہیں دیکھا
میں پھر بھی یہ کہتا ہوں مکمل نہیں دیکھا

میں نے تو گزرتے ہوئے دیکھا تھا اسے لیکن
وہ دل کا بہت سخت تھا اک پل نہیں  دیکھا

کچھ دن سے ہوا حبس زدہ شہر کا موسم
کچھ دن سے فلک پر کوئی بادل نہیں دیکھا

یوں لگتا ہے صدیاں ہوئی اُس شخص کو دیکھے
حالانکہ جسے میں نے فقط کل نہیں دیکھا

جو تجھ سے گریزاں ہے اُسی شخص کی باتیں
جرارؔ کہیں تجھ سا کوئی پاگل نہیں دیکھا

. . . . . . . . . . . . . . . . . . .Nouman iqbal. . . . . . .آغاجرارؔ

Comments

Popular posts from this blog

Loudspeakers Par Pabandi

The Inevitable Collapse of Fiat Money: What History, Not Hype, Tells UsIntroduction

Beyond Noise: Why History, Hard Assets, and Energy Reality Will Define Wealth in the 21st Century